Saturday, 5 December 2020

 کہتے ہیںمحبتوں میں ایک محبت نظریے کی ہے جو ہر محبت کی طرح قربانی مانگتی ہے اور محبت کرنے والوں کو آزمائش کی خاردارراہوں سے گزارتی ہے اور پھر وہ ان سنگلاخ راہوں پر چلتے چلتے اجل کی وادی میں اُتر جاتے ہیں۔یہ بھی ایسے ہی آشفتہ مزاجوں کی کہانی ہے جس کا آغاز امریکہ کے شہر نیویارک سے ہو تا ہے‘ جہاں جولیس (Julius Rosenberg) اور ایتھل (Ethel Rozenberg ) رہتے تھے۔ ان کی شادی 1939ء میں ہوئی تھی ۔جولیس ایک الیکٹریشن تھا لیکن ذہنی طور پر پختہ سوچ کا مالک۔ کمیونزم کا نظریہ اس کے رگ و پے میں سمایا ہوا تھا۔ اسی دوران اس کی ملاقات ایتھل سے ہوئی۔ وہ خوب صورت تو تھی ہی لیکن اس کی کشش کا اصل سبب کمیونزم سے اس کی دلچسپی تھی۔ جب 1940ء میں جولیس آرمی سگنل کور سے وابستہ ہوا تو اس کی سرگرمیاں زیرِ زمین چلی گئیں۔ پانچ سال کا عرصہ گزر گیا اس دوران جولیس انتہائی احتیاط اور راز داری کے ساتھ حساس معلومات روس بھیجتا رہا ۔ ان معلومات کا تعلق ریڈار اور ایئر کرافٹ ٹیکنالوجی سے تھا۔


ایتھل اور جولیس کے درمیان نظریے کا بندھن تھا۔ دونوں ایک ایسی فکر کے اسیر تھے جس میں معاشرے میں سماجی تفریق کیلئے کوئی جگہ نہیں تھی اور امارت اور غربت کی حد بندیاں بھی نہیں تھیں۔قدرت نے جولیس کو ایک ایسی جگہ تک رسائی دے دی تھی جہاں کی خفیہ معلومات وہ اپنے خوابوں کی جنت روس بھیج کر اپنے خوابوں میں رنگ بھرنا چاہتا تھا‘لیکن یہ سلسلہ اس وقت رُک گیا جب شک کی بنا پر اس کی نگرانی کی جانے لگی اور پھر 1950ء میں اس کو گرفتار کر لیا گیا۔اسی دوران اس نے ایتھل کے بھائی Greenglass‘ جو مین ہیٹن پراجیکٹ پر کام کرتا تھا‘کو بھی حساس محکمے میں نوکری دلادی تھی۔ گرین گلاس نے اس سے فائدہ اُٹھایا اور اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹس اور ڈرائنگزجولیس تک پہنچاتا رہا جنہیں وہ سوویت یونین تک منتقل کرتا رہا۔


جیل میں جولیس پر طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے کہ وہ ان ساتھیوں کے نام بتا دے جن کے ساتھ اس کے رابطے تھے‘ لیکن جولیس نے سب کچھ برداشت کیا مگر اپنی زبان نہ کھولی۔ پھر اسے یہ پیشکش بھی کی گئی کہ اگر وہ ساتھیوں کے نام بتا دے تو معافی مل سکتی ہے ‘ لیکن جولیس کی خاموشی برقرار رہی ۔اب تفتیش کا روں نے جولیس کی بیوی ایتھل کو اپنے تفتیشی سوالوں کا نشانہ بنا لیا ‘لیکن ایتھل بھی نظریے کی محبت میں جولیس سے جڑی ہوئی تھی۔ اس نے تمام تفتیشی ہتھکنڈوں کا سامنا کیا لیکن تفتیش کاروں کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی کہ وہ اپنے خاوند کے خلاف گواہی دے۔ ایک طرف زندگی تھی اور دوسری طرف اپنے نظریے اور خاوند سے محبت۔ ایتھل نے تفیش کاروں کی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ تفتیش کار اب جھنجلاہٹ کا شکار ہو رہے تھے۔ انہیں ہر حال میں جولیس کو عبرت کا نشانہ بنانا تھا۔اس سارے واقعے کا پس منظر یہ تھا کہ امریکہ نے ایٹم بم بنا لیا تھا اور اس کا خیال تھا کہ روس کو مہارت کی اس سطح پر پہنچنے کے لیے ایک عرصہ درکار ہوگا‘لیکن وہ اس وقت حیرت زدہ رہ گئے جب چند برس بعد روس نے بھی ایٹم بم بنا لیا۔ اپنی خفت کم کرنے کے لیے اب ضروری تھا کہ یہ تاثر قائم کیا جائے کہ روسی سائنس دان تو اس قابل نہیں تھے کہ وہ ایٹم بم بنا سکیں یہ صرف اس لیے ممکن ہوا کہ جولیس نے امریکہ کے ایٹمی راز روس تک پہنچا دیے۔ یوں جولیس کے سر کی قربانی امریکی حکومت کی خفت مٹانے کے لیے ضروری تھی۔ لیکن جولیس اور ایتھل نے اپنے ہونٹ سی لیے تھے۔اب صرف ایک امید باقی تھی وہ David Greenglass تھا‘ جو ایتھل کا بھائی تھا اور جسے جولیس نے ایک حساس محکمے میں ملازمت دلائی تھی اور جو جاسوسی کے عمل میں اس کا ساتھی تھا۔ ڈیوڈ پر تفتیش کاروں نے دباؤ ڈالا اور اسے بتایا کہ وہ بُری طرح پھنس چکا ہے اور اگر وہ جان کی امان چاہتا ہے تواپنی بہن کے خلاف گواہی دے کہ وہ اپنے خاوند جولیس کی سرگرمیوں میں برابر کی شریک تھی۔ ڈیوڈ تفتیش کاروں کا دباؤ برداشت نہ کر سکا اور جھوٹی گواہی دے دی کہ اس کی بہن جولیس کے لیے دستاویزات ٹائپ کرتی تھی۔ یہ تفتیش کاروں کی چال تھی تاکہ اس گواہی کی روشنی میں ایتھل پر دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ اپنے خاوند جولیس کے بارے میں جاسوسی کرنے کی گواہی دے‘لیکن ایتھل نے اس کے باوجود جولیس کے خلاف گواہی دینے سے انکار کر دیا۔ نتیجے کے طور پر ایتھل کو سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ وہ 19جون 1953ء کا دن تھا جب جولیس اور ایتھل روزنبرگ کو نیویارک کی Sing Sing جیل میں الیکٹرک چیئر کے ذریعے موت کے گھاٹ اُتا ر دیا گیا۔ یہ امریکی تاریخ کا انوکھا واقعہ تھا جس میں سویلنز کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔


ان کی موت کی سزا پر دنیا کے مختلف حصوں میں احتجاج ہوا لوگ اس سارے مقدمے کو حکومت اور عدالت کا گٹھ جوڑ قرار دے رہے تھے۔ اس ردِ عمل کے کئی رنگ تھے۔ ایتھل اور جولیس روزنبرگ کی موت کے بعد 15 مئی 1954ء کوفیض صاحب نے منٹگمری جیل میں اپنی یادگار نظم '' ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے‘‘ لکھی تھی جو ان کے مجموعے ''زنداں نامہ ‘‘میں شامل ہے۔ اس نظم سے پہلے ایک تعارفی سطر ہے۔


(ایتھل اور جولیس روزن برگ کے خطوط سے متاثر ہو کر لکھی گئی)


تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم


دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے


تیرے ہاتھوںکی شمعوں کی حسرت میں ہم


نیم تاریک راہوں میں مارے گئے


سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے


تیرے ہونٹوںکی لالی لپکتی رہی


تیری زلفوں کی مستی برستی رہی


تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی


جب گھلی تیری راہوں میں شامِ ستم


ہم چلے آئے‘لائے جہاں تک قدم


لب پہ حرفِ غزل‘ دل میں قندیل ِغم


اپنا غم تھا گواہی ترے حسن کی


دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم


ہم جو تاریک راہوںمیں مارے گئے


نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی


تیری الفت تو اپنی ہی تدبیر تھی


کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے 


ہجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے


قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے علم


اور نکلیں گے عشاق کے قافلے


جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم


مختصر کر چلے درد کے فاصلے


کرچلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم


جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم


ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے


کہتے ہیںمحبتوں میں ایک محبت نظریے کی ہے جو ہر محبت کی طرح قربانی مانگتی ہے اور محبت کرنے والے کو آزمائش کی خاردارراہوں سے گزارتی ہے اور پھر وہ ان سنگلاخ راہوں پر چلتے چلتے اجل کی وادی میں اتر جاتے ہیں۔



Pakistan's Steel Mills

 دوادارے جو ہمارا مان تھے۔ہم سے رخصت ہو رہے ہیں۔ پی آئی اے اور سٹیل ملز۔ آج کل خاص کر سٹیل ملز کا بہت چرچا ہے جس کے ملازمین نے نیشنل ہائی وے پر اور ملک کے اہم ترین ریلوے ٹریک پر دھرنا دے کر زندگی مفلوج کر دی۔میرا یہ پختہ یقین ہے کہ ان اداروں کی تباہی میں کراچی کی سیاست کا بنیادی کردار ہے اور اب ہم جو کشکول لے کر نکلے ہوئے ہیں تو ہمیں آج کی عالمی ایسٹ انڈیا کمپنی المعروف آئی ایم ایف نے بتا رکھا ہے کہ ہمیں ان اداروں سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ حکومت نے افراتفری میں اعلان کر دیا ہے کہ سٹیل ملز کے 9500ملازمین میں سے 4500فوری طور پر فارغ کئے جا رہے ہیں۔ باقیوں کی بھی چھٹی ہو جائے گی۔95فیصد ملازمین گھر جائیں گے۔ پھر پانچ فیصد لوگوں سے کیا سٹیل ملز چلائی جائے گی۔ کیا یہ اس کی نجکاری کی شرائط ہیں یا کیا ہے۔

جب پہلی بار اسٹیل ملز فروخت کی گئی تو اس وقت یہ ادارہ منافع میں جا رہا تھا۔ پہلے کرنل افضل نے پھر جنرل قیوم نے اسے پائوں پر کھڑا کر دیا تھا۔ جنرل قیوم بہت تلمائے۔ وہ کہتے رہے‘ میں نے 10ارب روپے جمع کئے ہیں۔ سٹیل ملز کے اپنے وسائل سے قرضے بھی اتار دیے ہیں مجھے اجازت دیجیے۔ سٹیل ملز میں کوئی 160چھوٹی موٹی تبدیلی کردوں گا۔ حکومت سے ایک پیسہ نہیں لوں گا۔ پھر سٹیل ملز کی گنجائش بھی بڑھ جائے گی۔ یہ 11لاکھ ٹن سے 15لاکھ ٹن ہو جائے گی۔ وہ یہ بھی کہتے رہے کہ روس تیار ہے‘ چین بھی آمادہ ہے۔ ہم اس کی گنجائش ان کی مدد سے 30لاکھ ٹن کر دیں گے۔ پھر یہ ادارہ ہمیشہ ہمیشہ کی طرح اپنے پائوں پر کھڑا ہو جائے گا۔ مگر شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ ذرا برابر بھی اصلاح نہ کی جائے۔ ایسے ہی بیچیں گے۔ کوئی اسے صفر روپے میں بھی خریدے تو خسارے کا سودا نہیں۔

یہ منطق کسی کو سمجھ نہ آتی تھی‘ عدالتوں نے اس کی نجکاری پر حیرانی کا اظہار کیا۔ جتنے میں بیچی تھی اس سے زیادہ تیار مال اور استعمال ہونے والا سامان موجود تھا۔ بعد میں لگتا تھا اب اس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ ہم نے اونے پونے اسے فروخت کیوں نہ کیا ہم ہر سال تاوان بھرتے رہے اور قائل ہوتے رہے کہ اسے بیچ ہی ڈالو تو اچھا ہے۔

نئی حکومت نے آتے ہی اعلان کیا کہ ہم اسے چلا کر دکھائیں گے۔اسد عمر تو یہاں تک کہہ گئے کہ نہ چلا سکا تو آپ کے ساتھ حکومت کی مخالفت میں آکھڑا ہوں گا۔ بتایا گیا کہ سنگا پور اور ملائشیا میں یہ ماڈل کامیاب ہے۔ وزیر اعظم نے بہ نفس نفیس اس کی ذمہ داری سنبھالی۔ آخر دو سال کے بعد اعلان ہوا کہ ہم ملازمین کو فارغ کر رہے ہیں۔ تقریباً سب کو فارغ کر دیں گے۔

ان کی محبت میں سندھ کی صوبائی حکومت سامنے آئی۔وہ زمینوں کے بڑے شیدا ہیں۔کہنے لگے‘ بند کیا گیا تو پھر یہ زمین ہماری ہو گی۔ صوبائی حکومت کا اس نوع کا موقف بہت پرانا رہا ہے۔ ان کی نگاہیں ہمیشہ زمین پر ہوتی ہیں۔ وہ یہاں پلازے اور بنگلے بنتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں یہ بنیادی مسئلہ ہے کہ سٹیل ملز ختم ہو تو یہاں قبضہ کس کا ہو گا۔بڑا ہی دلچسپ موقف ہے۔ درمیان میں ٹکڑا لگا دیتے ہیں یہ سب کچھ وفاق کر رہا ہے۔ ہم کسی کو بے روزگار نہیں ہونے دیں گے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ اسٹیل ملز اور پی آئی اے کی تباہی میں کراچی کی سیاست کا دخل ہے۔ ایم کیو ایم آتی تو اپنے پانچ چھ ہزار کارکن بھرتی کر جاتی۔ پیپلز پارٹی آئی تو اتنے ہی جیالے لگا جاتی بعد میں جھگڑا پڑا رہتا۔ دوسرے بھی کچھ کرتے ہوں گے مگر ان پارٹیوں کا جواب نہیں۔پیپلز پارٹی اسی طرح نوکریاں دیتی ہے۔ میرٹ یا ضرورت نہیں دیکھتی۔ بس اپنے بندے کھپا دیتی ہے جن کے ساتھ بعد میں لازمی طور پر اچھا سلوک نہیں ہوتا۔

جب یہ ادارہ بن رہا تھا تو ایک خواب تھا۔ عالمی اقتصادی سامراج یہاں سٹیل ملز لگنے نہیں دینا چاہتا تھا۔ ہمارے ملک میں یہ ایک بڑی بنیادی بحث تھی۔ اس زمانے میں خاص کر فولاد سازی کلیدی صنعت تھی۔جس کے پاس لوہا اس کے پاس اصل طاقت۔ یہاں سٹیل امپورٹ کرنے والوں کی بڑی مضبوط لابی تھی۔ مجھے یاد ہے ان دنوں ایک پروفیسر اشفاق ہوا کرتے تھے جن کے نام پر لاہور میں ایک سڑک بھی ہے۔ وہ غالباً ایم حمزہ کے نام سے لکھا کرتے تھے۔ یہ گویا ایک بڑا قومی مسئلہ تھا اور اسے اجاگر کرنے والے قومی ہیرو تھے۔ بھٹو صاحب کا یہ بڑا کارنامہ گنا جاتا ہے کہ انہوں نے روس کی مدد سے اس منصوبے کا آغاز کیا۔

کیا شاندار منصوبہ تھا۔ یاد نہیں کتنے سو میل سڑکیں اور ریلوے لائن ہے۔ سمندر سے خام مال گاڑیوں میں نہیں آتا تھا۔ ایک تین کلو میٹر لمبی بیلٹ چلتی تھی۔ جو جہاز سے اترا ہوا مال سیدھا کارخانے میں لے جاتی تھی۔اس کے گرد22ڈائون سٹریم انڈسٹریز کے لئے گنجائش تھی۔کیا نیا عالم آباد ہونا تھا۔ یہ خواب مگر خواب ہی رہا ہے۔ میں نے آغاز ہی میں یہاں آ کر ایک مضمون لکھا:پاکستان کا صنعتی دارالحکومت۔ کہا جاتا تھا کہ اس سٹیل ملز کے لگنے کے بعد ہماری ٹیکسلا والی ہیوی مشین فیکٹری اور کراچی کی سمال مشین گول فیکٹری مل کر ایک صنعتی انقلاب لا سکتی ہیں۔ اتفاق کا نام نہیں لوں گا‘ لاہور میں پیکو(پیکو) تھا۔ کراچی میں شپ یارڈ ہم سب کچھ بنا سکتے تھے۔ افسوس یہ خواب خواب ہی رہا۔ سٹیل ملز کے عقب میں بس ایک کلب بنا جہاں کی اپنی دنیا تھی۔

یہ درست ہے اس کی حالت دگرگوں ہوئی‘ مگر جب اس نے سنبھالا تھا یا تو ہم بیچنے تل گئے۔ اور وہ بھی اونے پونے نرخوں پر۔پیپلز پارٹی کے دنوں میں جنرل جاوید کو دوبارہ یہ کام سونپا گیا۔ شاید وہ کچھ کر دکھائیں مگر چند ماہ بعد وہ بھی مایوس ہو گئے۔ حکومت خام مال منگوانے کے لئے فنڈز ہی جاری نہ کرتی تھی۔بس یوں سمجھئے کہ اس کی تعمیر سے لے کر اس مرحلے تک جب اس نے دوبارہ اڑانیں بھرنا 

شروع کر دی تھیں میں نے اسے بہت قریب سے دیکھا ہے۔ بس یوں سمجھئے ایک خواب سمجھئے۔ پھر اجڑتے دیکھا ہے۔ بہت سیاست ہوئی مگر اس حکومت کے پاس کوئی جواز نہیں ہے جس نے اس کے احیائے نو کا پختہ اعلان کیا تھا۔ اچھے اچھے خیالات ادھر ادھر سے لے کر اگر یہ سمجھا جائے کہ معرکہ سر ہو گیا ہے تو ایسا نہیں ہوتا۔کام دکھانے والے کام دکھا گئے ہیں اور یہ حکومت ان معاملات میں مزاحمت نہیں کرتی۔ عالمی قوتوں کے سامنے جھک جاتی ہے۔ یو ٹرن نہ لیتی ہو‘ مگر سیدھی کھڑی بھی نہیں رہتی۔ایسے تو معیشت سنبھل نہیں پائے گی۔یہ عالمی اقتصادی دہشت گرد ہمیں کھائے جا رہے ہیں۔ خدا ہم پر رحم کرے۔ ہم کچھ بھی نہیں کر پا رہے۔ سٹیل ملز کا بھی سودا کر رہے ہیں اور پی آئی اے کا بھی حال خراب کر رہے ہیں۔ فی الحال اس دوسرے فیصلے پر پھر کبھی سہی۔ مگر اتنا خیال ہے کہ ہم خود اپنی قبر کھود رہے ہیں۔


x

Tuesday, 7 May 2013

7 Interesting Facts about Fishes you didn’t know
Below mentioned are the 7 most amazing, interesting and in fact surprising facts about the fishes. You’ll surely be stand still after reading this post. You would love and get amused after being acknowledged with the following fascinating facts about fishes.
Cavefish: The Fish with no Eyes
·         Cavefish is a very popular specie of fishes. It has got no eyes but is intelligent enough to sense the in-coming vibrations in its path. In addition to it, they are very good in smelling.
   Oscar Fish: The Multi-color Fish    



 ·         It is a proven fact that Oscar fish has the ability to change colors then they are in the process of mating. They are found in Australia, China and USA.
  Fishes has over 32,000 species

·         There are around 32,000 of different species of fishes and their study is known “ichthyology”. When talking about Fishes, they will be mentioned as “Fish” if we talk about a single species of fish while they will be mentioned as “Fishes” if we talk about multiple species.
  Jellyfish: The Intelligent One




·         Jelly Fish lacks in terms of having outer-shell or skeletal structure. They are considered as the most intelligent specie in fishes, yet they have no brain. Jelly Fish is the only fish that in-takes food and passes-out waste material from the very same mouth.

 Stone Fish: The Poisonous Stone
·         Stone Fish is one of the most venomous fishes in the world. It is fatal to humans too and can cause death if not treated with in a couple of hours when they sting. They have several species and all of them are equally dangerous for humans.
 Seahorse: The Slowest Fish
 
    It was a big debate for scientists whether seahorse is a species of fish or not but finally they agreed that sea horse belongs to the fish family. Sea horses are the slowest swimmers as they hardly cover a distance of five feet per hour.
  Anaplebs: The Four-eyed Fish
    An intelligent species of fish that can see above and below the surface of water at the same time, this is why they are called four-eyed fish. Their eyes are positioned on top of their head and they keep upper half of their eye above the surface of water while the lower half below the surface.